اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے پر امریکی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جوہری معاہدے کو ختم کرکے ایران کو قصور وار ٹھرانا چاہتا ہے جس پر یورپ کو ہوشیار رہنا ہوگا.
ان خیالات کا اظہار 'محمد جواد ظریف' نے ہفتہ کے روز تہران میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ 'فیڈریکا مغرینی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر ایران اور یورپی یونین کے وفود میں اعلی سفارتکار اور حکام شریک تھے.
فیڈریکا موگرینی ایران کے 12ویں صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے جمعہ کی رات تہران پہنچ گئیں تھیں.
محمد جواد ظریف نے اس ملاقات میں مزید کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کو جوہری معاہدے کے ثمرات ملے جبکہ ٹرمپ انتظایہ کا یہ اقدام اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی ہے.
انہوں نے ایران کے میزائل تجربے اور حالیہ دنوں میں سیارہ بردار سیمرغ شٹل کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کے تجربے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ تین یورپی ممالک کا مشترکہ بیان افسوسناک ہے.
اس ملاقات میں خاتون یورپی رہنما نے اپنے دورہ ایران اور صدر روحانی کی تقریب حلف برداری میں شرکت پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران اور عالمی برادری کے مشترکہ مفادات ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین، ایران جوہری معاہدے کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور یہ تمام یورپی ممالک کا مؤقف ہے.
فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ جوہری معاہدے پر ہمارا مؤقف واضح ہے بلکہ ہماری کوشش ہے کہ امریکہ کو اس معاہدے پر پابند رہنے کے لئے قائل کریں.
اس ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ اور خاتون یورپی رہنما نے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، خلیج فارس کی حالیہ تبدیلیوں، یمن، شام اور عراق کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲